احمد فراز کی شاعری اور مختصر تعارف

aaks
0



احمد فراز 


احمد فراز: درد و عشق کا شاعر

احمد فراز اردو کے بہت ہی نامور شاعروں میں سے ایک تھے انھوں نے اپنی شاعری کے ذریعے لاکھوں لوگوں کے دلوں پر راج کیا۔ ان کی شاعری میں عشق،پیار، درد، جدوجہد اور سماجی اور معاشرتی ناانصافی کے موضوعات کو خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

ابتدائی زندگی اور پیدائش 

احمد فراز 12 جنوری 1931 کو کوہاٹ( جو اس وقت متحدہ ہندوستان تھا) ، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید احمد شاہ تھا۔ اپنی ابتدائی تعلیم کوہاٹ میں سے ہی حاصل کی

اور بعد ازاں پشاور یونیورسٹی سے اردو اور فارسی میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں

شاعری کا آغاز

احمد فراز نے کم عمر میں ہی شاعری شروع کر دی تھی۔ ان کی شاعری میں رومانوی سماجی معاشرتی پہلو نمایاں ہیں۔ ان کی شاعری کا آغاز رومانوی انداز سے ہوا لیکن بعد میں ان کی شاعری میں سماجی اور سیاسی موضوعات بھی شامل ہو گئے۔

شہرت

ان کی شاعری کو پاکستان کے علاوہ ہندوستان اور دیگر ممالک میں بھی بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان کی نظمیں اور غزلیں آج بھی لوگوں کے دلوں میں بستی ہیں۔

تصانیف 

تنہا تنہا: یہ ان کا پہلا شعری مجموعہ تھا۔
درد آشوب: اس مجموعے کے لیے انہیں آدم جی ادبی ایوارڈ بھی ملا۔
ساقی نامہ: ان کی شاعری کا ایک مشہور مجموعہ۔

وفات

احمد فراز 25 اگست 2008 کو لاہور میں وفات پاگئے
کیا آپ احمد فراز کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں؟

یہاں کلک کریں 








تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز 
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا 







مکمل غزل


سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
تو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے ربط ہے اسکو خراب حالوں سے
سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز اسکی
سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اسکو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف
تو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کرکے دیکھتے ہیں
سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے
ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں
سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے چشر ہیں اس کی غزال سی آنکھیں
سنا ہے اسکو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں اسکی
سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کی سیاہ چشمگی قیامت ہے
سو اسکو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں
سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اسکی
جو سادہ دل ہیں اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں
بس اک نگاہ سے لٹتا ہے قافلہ دل کا
سو راہ روانِ تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں
رکے تو گردشیں اسکا طواف کرتی ہیں
چلے تو اسکو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں
کہانیاں ہی سہی سب مبالغے ہی سہی
اگر وہ خواب ہے تو تعبیر کر کے دیکھتے ہیں
اب اسکے شہر میں ٹھہریں کہ کوچ کرجائیں
فراز آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں











مکمل غزل

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ

کچھ تو مرے پندار محبت کا بھرم رکھ
تو بھی تو کبھی مجھ کو منانے کے لیے آ

پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تو
رسم و رہ دنیا ہی نبھانے کے لیے آ

کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم
تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ

اک عمر سے ہوں لذت گریہ سے بھی محروم
اے راحت جاں مجھ کو رلانے کے لیے آ

اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں
یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لیے آ



                                                   احمد فراز

Ahmad Fraz




یہ شعر بیت ہی مشہور ہوا






Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)
To Top