Urdu poetry of perveen shakir
پروین شاکر کے مشہور ترین اشعار
About Perveen shakir
Perveen Shakir, born in 1952 in Karachi, Pakistan, is a celebrated Urdu poet known for her delicate blend of classical and modern themes. Her poetry, characterized by eloquence and depth, transcends cultural boundaries and reflects her keen observations of life's nuances, love, and societal challenges. Shakir's collection "Khushboo" (Fragrance) is a testament to her mastery, capturing the essence of love with eloquence and depth. As a civil servant, Shakir's intellectual pursuits found expression in her verses, making her a literary luminary. Despite her tragic death in 1994, her legacy continues to inspire and captivate readers worldwide, solidifying her place among the most celebrated Urdu poets.
اشعار
امید
☆☆☆☆
اب تو اس راہ سے وہ شخص گزرتا بھی نہیں
اب کس امید پہ دروازے سے جھانکے کوئی
♦️♦️♦️♦️
وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا
❤️❤️❤️❤️
حسن کے سمجھنے کو عمر چاہیئے جاناں
دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں
❤️❤️❤️
میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لا جواب کر دے گا
رسوائی
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
♦️♦️♦️♦️♦️
چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا
عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا
♦️♦️♦️♦️♦️
ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائے گا
کیا خبر تھی کہ رگ جاں میں اتر جائے گا
♦️♦️♦️♦️♦️
بس یہ ہوا کہ اس نے تکلف سے بات کی
اور ہم نے روتے روتے دوپٹے بھگو لئے
♦️♦️♦️♦️♦️
یوں بچھڑنا بھی بہت آساں نہ تھا اس سے مگر
جاتے جاتے اس کا وہ مڑ کر دوبارہ دیکھنا
♦️♦️♦️♦️♦️
لڑکیوں کے دکھ عجب ہوتے ہیں سکھ اس سے عجیب
ہنس رہی ہیں اور کاجل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
♦️♦️♦️♦️♦️
کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی
میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی
♦️♦️♦️♦️♦️
اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں
اک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں
♦️♦️♦️♦️♦️
اپنے قاتل کی ذہانت سے پریشان ہوں میں
روز اک موت نئے طرز کی ایجاد کرے
♦️♦️♦️♦️♦️
کانٹوں میں گھرے پھول کو چوم آئے گی لیکن
تتلی کے پروں کو کبھی چھلتے نہیں دیکھا
♦️♦️♦️♦️♦️
پاس جب تک وہ رہے درد تھما رہتا ہے
پھیلتا جاتا ہے پھر آنکھ کے کاجل کی طرح
♦️♦️♦️♦️♦️
جگنو
جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے
♦️♦️♦️♦️♦️
تو بدلتا ہے تو بے ساختہ میری آنکھیں
اپنے ہاتھوں کی لکیروں سے الجھ جاتی ہیں
♦️♦️♦️♦️♦️
اس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا
روح تک آ گئی تاثیر مسیحائی کی
♦️♦️♦️♦️♦️
شناسائی
کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی
اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
♦️♦️♦️♦️♦️
کیا کرے میری مسیحائی بھی کرنے والا
زخم ہی یہ مجھے لگتا نہیں بھرنے والا
اب تو اس راہ سے وہ شخص گزرتا بھی
نہیں
اب کس امید پہ دروازے سے جھانکے کوئی
☆☆☆☆
سب سے نظر بچا کے وہ ، مجھ کو ایسے
تھا دیکھتا
اک دفعہ تو رک گئی ، گردشِ ماہ و سال بھی
☆☆☆☆
ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا۔۔
بجتے رہے ہواؤں سے در۔۔تم کو اس سے کیا۔۔۔
☆☆☆☆
وقت رخصت آگیا ، دل پھر بھی گھبرایا نہیں
اس کو ہم کیا کھویئں گے جس کو کبھی پایا نہیں
☆☆☆☆
وہ جب آئے گا تو پھر اُس کی رفاقت کے لیے
موسمِ گُل مرے آنگن میں ٹھہر جائے گا
☆☆☆☆
ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺟﻮ ﮔﺰﺭﺍ ﮬﮯ ﺍﺑﮭﯽ
ﺗﮭﺎ ﮐِﺴﯽ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ، ﻟﻮﮔﻮ
☆☆☆☆
لڑکیوں کے دُکھ عجب ہوتے ہیں،سُکھ اُس سے عجیب
ہنس رہی ہیں اور کاجل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
☆☆☆☆
یہ دُکھ نہیں کہ اندھیروں سے صلح کی ہم نے
ملال یہ ہے کہ اب صبح کی طلب بھی نہیں
☆☆☆☆
احوال مرا وہ پوچھتا تھا
لہجے میں بڑی چبھن سمیٹے
☆☆☆☆
قوتِ غم ہے جو اس طرح سنبھالے ہے مجھے
ورنہ بکھروں کسی لمحے تو سمٹنا مشکل
☆☆☆☆
کانپ اٹھتی ہوں , میں یہ سوچ کے تنہائی میں
میرے چہرے پہ ترا نام , نہ پڑھ لے کوئی
☆☆☆☆
زندگی میری تھی لیکن اب تو
تیرے کہنے میں رہا کرتی ہے
☆☆☆☆
تنہائی
شب کی تنہائی میں اب تو اکثر
گفتگو تجھ سے رہا کرتی ہے
☆☆☆☆
قصور ھو تو ھمارے حساب میں لکھا جائے
محبتوں میں جو احسان ھو ، تمھارا ھو
☆☆☆☆
بس یہ ہُوا کہ اُس نے تکلّف سے بات کی
اور ہم نے روتے روتے دوپٹے بھگو لیے
☆☆☆☆
پھر , دیدہ و دل کی خیر یا رب!
پھر , ذہن میں خواب پل رہا ہے
☆☆☆☆
اپنے قاتل کی ذہانت سے پریشان ہُوں میں
روز اِک موت , نئے طرز کی ایجاد کرے
☆☆☆☆
رفاقتوں کے نئے خواب , خُوش نما ہیں ،مگر
گُزر چکا ہے , ترے اعتبار کا موسم
☆☆☆☆
اُس کی سُخن طرازیاں , میرے لیے بھی ڈھال تھیں
اس کی ہنسی میں چھپ گیا , اپنے غموں کا حال بھی
☆☆☆☆
میرے چہرے پہ غزل لکھتی گئیں
شعر کہتی ہوئی , آنکھیں اُس کی
سب سے نظر بچا کے وہ ، مجھ کو ایسے تھا دیکھتا
اک دفعہ تو رک گئی ، گردشِ ماہ و سال بھی
☆☆☆☆
ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا۔۔
بجتے رہے ہواؤں سے در۔۔تم کو اس سے کیا۔۔۔
☆☆☆☆
وقت رخصت آگیا ، دل پھر بھی گھبرایا نہیں
اس کو ہم کیا کھویئں گے جس کو کبھی پایا نہیں
☆☆☆☆
وہ جب آئے گا تو پھر اُس کی رفاقت کے لیے
موسمِ گُل مرے آنگن میں ٹھہر جائے گا
☆☆☆☆
ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺟﻮ ﮔﺰﺭﺍ ﮬﮯ ﺍﺑﮭﯽ
ﺗﮭﺎ ﮐِﺴﯽ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ، ﻟﻮﮔﻮ
☆☆☆☆
دکھ
لڑکیوں کے دُکھ عجب ہوتے ہیں،سُکھ اُس سے عجیب
ہنس رہی ہیں اور کاجل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
☆☆☆☆
یہ دُکھ نہیں کہ اندھیروں سے صلح کی ہم نے
ملال یہ ہے کہ اب صبح کی طلب بھی نہیں
☆☆☆☆
احوال مرا وہ پوچھتا تھا
لہجے میں بڑی چبھن سمیٹے
☆☆☆☆
قوتِ غم ہے جو اس طرح سنبھالے ہے مجھے
ورنہ بکھروں کسی لمحے تو سمٹنا مشکل
☆☆☆☆
کانپ اٹھتی ہوں , میں یہ سوچ کے تنہائی میں
میرے چہرے پہ ترا نام , نہ پڑھ لے کوئی
☆☆☆☆
زندگی میری تھی لیکن اب تو
تیرے کہنے میں رہا کرتی ہے
☆☆☆☆
شب کی تنہائی میں اب تو اکثر
گفتگو تجھ سے رہا کرتی ہے
☆☆☆☆
قصور ھو تو ھمارے حساب میں لکھا جائے
محبتوں میں جو احسان ھو ، تمھارا ھو
☆☆☆☆
بس یہ ہُوا کہ اُس نے تکلّف سے بات کی
اور ہم نے روتے روتے دوپٹے بھگو لیے
☆☆☆☆
پھر , دیدہ و دل کی خیر یا رب!
پھر , ذہن میں خواب پل رہا ہے
☆☆☆☆
اپنے قاتل کی ذہانت سے پریشان ہُوں میں
روز اِک موت , نئے طرز کی ایجاد کرے
☆☆☆☆
رفاقتوں کے نئے خواب , خُوش نما ہیں ،مگر
گُزر چکا ہے , ترے اعتبار کا موسم
☆☆☆☆
اُس کی سُخن طرازیاں , میرے لیے بھی ڈھال تھیں
اس کی ہنسی میں چھپ گیا , اپنے غموں کا حال بھی
☆☆☆☆
میرے چہرے پہ غزل لکھتی گئیں
شعر کہتی ہوئی , آنکھیں اُس کی