Best of Faiz Ahmad Faiz :A Brief history and URDU poetry with English text

aaks
0

 



Two Lines Urdu Poetry: FAIZ Ahmad Faiz poetry in urdu and English Texts 


If you like urdu poetry of FAIZ ahmed faiz and want to read about Faiz’s poetry than you are at the right place here. 



Introduction : Faiz Ahmad Faiz was born in 1911 in Sialkot, Punjab British india (now Pakistan)



Faiz Ahmad Faiz: A poet of love and resistance

Faiz was a prominent Urdu poet, journalist, editor, teacher, and political activist. He received  numerous prestigious awards, including the Lenin Peace Prize, the Nishan-e-Imtiaz, and the Lotus Prize for Afro-Asian Writers. He was a poet of love, resistance and bravery.


Faiz's poetry: a blend of classical and modern Urdu traditions,

 
Faiz Ahmad Faiz’s poetry is a blend of classical and modern  Urdu traditions Faiz  was deeply influenced by Mirza Ghalib, Allama Iqbal, Hafez, Rumi, and Marx. It explored themes like love, beauty, sorrow, social injustice, humanism, and revolution. Faiz was a critic of oppressive regimes and colonial powers, championing the rights and dignity of marginalized people.


Faiz’s Poetry :a source of influence and relevance


Faiz's poetry is renowned for its lyrical beauty, musicality, and profound message. It has inspired generations of poets, writers, artists, and activists. His poems have been translated into various languages and performed by singers like Mehdi Hassan, Iqbal Bano, Nayyara Noor, and Tina Sani.
Here are some of the most popular verses (ashaar) of Faiz Ahmad Faiz in Urdu text:




اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا



aur bhi dukh hain zamane men mohabbat ke siva
rahatea aur bhi hain vasl ki rahat ke siva


(There are other sorrows in the world besides love There are other comfortbesides the comfort of union)


دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے


dil na-umid to nahin nakam hito hai
lambihai ġham ki shaam magar shaam hi to hai
(The heart is not hopeless, only unsuccessful The evening of sorrow is long, but it is still evening)


کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے


kar raha tha ġham-e-jahan ka  hisab
aaj tum yaad be-hisab aey
(I was counting the sorrows of the world Today you came to my mind endlessly)


اور کیا دیکھنے کو باقی ہے
آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا


aur kya dekhne ko baaqi hai
aap se dil laga ke dekh liya
(What else is there to see I have seen everything by loving you)


دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے
وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے





donon  jahan teri mohabbat men haar ke
vo ja  raha  hai koi shab-e-ġham guzar ke
(Losing both worlds in your love He is going away, spending a night of sorrow)


💖

تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہی

کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں






tumhare yaad ke jab zaḳhm bharne lagte hain kisi bahane tumhen yaad karne lagte hain
(When the wounds of your memory start to heal I start to remember you on some pretext)


نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہی
نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی


nahin nigah men manzil to justuju hi sahi
nahin visal mayassar to aarzu hi sahi
(If there is no destination in sight, then search is enough If there is no union possible, then desire is enough)



وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا

وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے


Wo baat sare fasane men jis ka zikr na tha
Wo baat un ko bahut na-gavar guzr hai
(That thing that was not mentioned in the whole story That thing has passed very unpleasantly for them)





گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے


gulon men rang bhare bad-e-nau-bahar chale chale bhi aao ki gulshan ka karobar chale
(Let the breeze of spring fill the flowers with color Come, so that the business of the garden may go on)

💖

اک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک
اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے







ik tarz-e-taġhaful hai so vo un ko mubarak ik arz-e-tamanna hai so ham karte rahenge


(One way of indifference is theirs, so be it One way of longing is ours, so we will keep doing it)


I hope this blog post helps you to appreciate the poetry and life of Faiz Ahmad Faiz. He was a poet of love and resistance, who spoke to the hearts and minds of millions of people. He was a voice of hope and courage, who challenged the status quo and dreamed of a better world. He was a legend who lives on in his words and deeds.


Poetry in urdu text


❤️❤️❤️❤️

فیض احمد فیض شاعری 


غزل نمبر 1


میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات 
تیرا غم ہے تو غمِ دہر کا جھگڑا کیا ہے 

تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات 
تیری آنکھوں کے سِوا دنیا میں رکھا کیا ہے

تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہوجائے 
یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہوں جائے 

اور بھی دکھ ہے زمانے میں محبت کے سِوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کے راحت کے سِوا

اردو شاعری : فیض احمد فیض

♦️♦️♦️♦️
 قطع 

آئے کچھ اَبر کچھ شراب آئے 
اس کے بعد آئے جو عذاب آئے 
کررہا تھا غم جہاں کا حساب 
آج تم یاد بے حساب آئے
❤️❤️❤️❤️

فیض احمد فیض اردو اشعار

اٹھ   کر   تو   آ   گئے ہیں تری  بزم  سے  مگر 
کچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے آئے ہیں

راہ خزاں میں تلاش بہار کرتے رہے
شب سیہ سے طلب حسن یار کرتے رہے
انہی کے فیض سے بازار عقل روشن ہے 
جوگاہ گاہ جنوں اختیار کرتے رہے

امید یار ، نظر کا مزاج،درد کارنگ 
تم آج کچھ بھی نہ پوچھو کہ دل اُداس بہت ہے

زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں
ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں

آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہربان 
بھولے تو یوں کہ جیسے کبھی آشنا نہ تھے

چھنتی ہوئی نظروں سے جذبات کی دنیائیں 
بے خوابیاں، افسانے، مہتاب ، تمنائیں 
کچھ الجھی ہوئی باتیں، کچھ بہکے ہوئے نغمیں 
کچھ اشک جو آنکھوں سےبے وجہ چھلک جائے


یہ بھی پڑھیں: محبت شاعری

فیض احمد فیض اُردو شاعری : یاد

تمہاری یاد کی جب زخم بھرنے لگتے ہیں 
کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں

رات یوں دل میں تیری کھوئی ہوئی یاد آئی 
جیسے ویرانی میں چپکے سے بہار آجائے

تمہارے حسن سے رہتی ہے ہمکنار نظر 
تمہاری یاد سے دل ہم کلام رہتا ہے 
رہی فراغت ہجراں تو ہو رہے گا طے 
تمہاری چاہ کا جوجو مقام رہتا ہے

نظم : تنہائی


پھر کوئی آیا دِل زار! نہیں کوئی نہیں 
راہ رو ہوگا، کہیں اور چلا جائے گا 
ڈھل چکی رات ، بکھرنے لگا تاروں کا غبار 
لڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابید ہ چراغ 
سو گئی راستہ تک تک کہ ہر ایک راہ گذر 
اجنبی خاک نے دھندلادئیے قدموں کے سُراغ 
گُل کرو شمعئیں،بڑھادو،مے و مینا و ایاغ 
اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کرلو
اب یہاں کوئی نہیں ، کوئی نہیں آئے گا!۔


فیض احمد فیض 


اردو غزل نمبر2
 : فیض احمد فیض


شام فراق، اب نہ پوچھ، آئی اور آکے ٹل گئی 
دل تھا کہ پھر بہل گیا، جاں تھی کہ پھر سنبھل گئی
بزم خیال میں ترے حن کی شمع جل گئی 
درد کا چاند بجھ گیا، ہجر کی رات ڈھل گئی 
جب تجھے یاد کر لیا، صبح مہک مہک اٹھی
جب ترا غم جگا لیا، رات مچل مچل گئی 
دل سے تو ہر معاملہ کرکے چلے تھے صاف ہم 
کہنے میں ان کے سامنے بات بدل بدل گئی 
آخر شب کے ہمسفر فیض نجانے کیا ہوئے 
رہ گئی کس جگہ صبا،صبح کدھر نگل گئی

 . 3اردو غزل


کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں



کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں،کب بات میں تری بات نہیں 
صد شکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں 
مشکل ہیں اگر حالات وہاں، دل بیچ آئیں جاں دے آئیں 
دِل والو کوچئہ جاناں میں کیا ایسے بھی حالات نہیں 
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے، اس جان کی کوئی بات نہیں 
میدانِ وفا دربار نہیں، یاں نام ونسب کی پوچھ کہاں 
عاشق تو کسی کا نام نہیں، کچھ عشق کسی کی ذات نہیں 
گر بازی عشق کی بازی ہےجو چاہوں لگا دو ڈر کیسا 
گر جیت گئے تو کیا کہنا، ہارے بھی تو بازی مات نہیں

فیض احمد فیض

اُردو اشعار

گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے 
چلے بھی آو کہ گلشن کا کاروبار چلے

قرب کے نہ وفا کے ہوتے ہیں 
جھگڑے ساے انا کے ہوتے ہیں

اور کیا دیکھنے کو باقی ہے
آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا

جور کے تو کوہ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گزر گئے 
رہ      یار        ہم        نے       قدم          قدم         تجھے          یاد        بنا        دیا

وہ ہمارا ہے اس طرح سے فیض 
جیسے بندے خدا کے ہوتے ہیں

بہار اب آکے کیا کرےگی کہ جس سے تھا جشنِ رنگ ونغمہ 
وہ گل سرشام جل گئے ہیں، وہ دل تہِ دام بُجھ گئے ہیں


فیض احمد فیض 

 غزل نمبر4

راز الفت چپھا کے دیکھ لیا ۔۔ فیض احمد فیض
راز الفت چپھا کے دیکھ لیا 
دل بہت کچھ جلا کے دیکھ لیا 
اور کیا دیکھنے کو باقی ہے 
آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا 
وہ میرے ہوکے بھی میرے نہ ہوئے 
اُن کو اپنا بنا کے دیکھ لیا 
آج اُن  کی نظر میں کچھ ہم نے 
سب کی نظریں بچا کے دیکھ لیا 
آس اُس در سے ٹوٹتی ہی نہیں 
جا کے دیکھا، نہ جا کے دیکھ لیا 
فیض تکمیل غم بھی ہو نہ سکی 
عشق کو آزما کے دیکھ لیا 


فیض احمد فیض غزل
غزل نمبر5


دونوں جہاں تیری محبت میں ہار کر 
وہ جارہا ہے کوئی شبِ غم گزارکے 
ویراں ہے میکدہ، خم و ساغراُداس ہیں 
تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے 
اِک فرصتِ گناہ ملی، وہ بھی چاردن 
دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگارکے 
دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کردیا 
تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگارکے 
بُھولے سے مُسکرتودیے تھے وہ آج فیض 
مت پوچھ ولولے دلِ ناکردہ کار کے

فیض احمد فیض


غزل نمبر 6


اُٹھ کر تو آگئے ہیں تیری بزم سے مگر ۔۔۔ فیض احمد فیض

سب قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیں 
ہم لوگ سرخرو ہیں کہ منزل سے آئے ہیں
شمع نظر، خیال کے انجم، جگر کے داغ 
جتنے چراغ ہیں تری محفل سے آئے ہیں 
اٹھ کر تو آگئے ہیں تری بزم سے مگر 
کچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے آئے ہیں 
ہر ایک قدم اجل تھا ہر اک گام زندگی 
ہم گھوم پھر کے کوچہ قاتل سے آئے ہیں 
بادِ خزاں کا شکر کرو فیض جس کے ہاتھ 
نامے کسی بہار شمائل کے آئے ہیں


♥♥♥♥♥♥♥♥♥

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)
To Top