علامہ اقبال اردو شاعری | علامہ اقبال کی شاعری ، غزلیں اور مشہور اشعار
اردو شاعری کی اس حصے میں علامی اقبال اردو شاعری آپ کے پیش خدمت ہیں۔ جس میں ہم نے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے مشہور اشعار کو جمع کیا ہے۔
Allama Iqbal Urdu Poetry
Allama Iqbal Poetry in Urdu Text
اقبالؔ کوئی محرم اپنا نہیں جہاں میں
معلوم کیا کسی کو دردِ نہاں ہمارا
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خُدا بندے سے خود پوچھ بتا تیری رضا کیا ہے
♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️
ہو صداقت کے لئے جس دل میں مرنے کی تڑپ
پہلے اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرے
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
دل میں خُدا کا ہونا لازم ہے اقبالؔ
سجدوں میں پڑے رہنے سے جنت نہیں ملتی
♥️♥️♥️♥️
بات سجدوں کی نہیں خلوص نیت کی ہوتی ہے اقبال
اکثر لوگ خالی ہاتھ لوٹ آتے ہیں ہر نماز کے بعد♥️♥️♥️مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میںتو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ♥️♥️♥️کرتے ہیں سجدوں میں ہماپنی حسرتوں کی خاطر اقبالؔاگر کرتے صرف عشق خُدا میںتو کوئی حسرت ادھوری نہ رہتی♥️♥️♥️حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقیخدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ❤️❤️❤️کرتے ہیں سجدوں میں ہماپنی حسرتوں کی خاطر اقبالاگر کرتے صرف عشق خداتو کوئی حسرت ادھوری نہ رہتی❤️❤️❤️❤️اقبال کی شاعری خودی پرAllama Iqbal Urdu Poetry About Khudiمت کر خاک کے پتلے پہ غرور وبے نیازی اتنیخودکو خودی میں جھانک کر دیکھ تجھ میں رکھا کیا ہے🌹🌹🌹🌹🌹خودی کی موت سے ہندی شکستہ بالوں پرقفس ہوا ہے حلال اور آشیانہ حرام🌹🌹🌹🌹خودی کی موت سے پیر جرم ہوا مجبورکہ بیچ کھائے مسلماں کا جامہ احرام♥️♥️♥️♥️کھول آنکھ ،زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھمشرق سے نکلتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ🌹🌹🌹🌹آنکھ کو بیدار کر دے وعدہ دیدار سےزندہ کر دے دل کو سوز جوہر گفتار سے❤️❤️❤️❤️کون یہ کہتا ہے ،خدانظر نہیں آتاوہی تو نظر آتا ہے جب کچھ نظر نہیں آتا❤️❤️❤️فطرت کو خرد کے روبرو کرتسخیر مقام رنگ و بو کر♥️♥️♥️تو اپنی خودی کو کھو چکا ہےکھوئی ہوئی شئے کی جستجو کر♥️♥️♥️تاروں کی فضا ہے بیکرانہتو بھی یہ مقام آرزو کرعریاں ہیں تیرے چمن کی حوریں🌹🌹🌹🌹چاک گل و لالہ کو رفو کربے ذوق نہیں اگر چہ فطرت🌹🌹🌹🌹جو اس سے نہ ہو سکا وہ تو کرکھبی دریا سے مثلِ سوج اُبھر کر❤️❤️❤️❤️کبھی دریا کے سینے میں اُتر کرکبھی دریا کے ساحل سے گزر کر❤️❤️❤️❤️مقام اپنی خُودی کا فاش تر کرعشق بھی ہو حجاب میں حسن بھی ہو حجاب میںیا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کرعلم میں بھی سرور ہے لیکنیہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیںیہ موج نفس کیا ہے، تلوار ہےخودی کیا ہے، تلوار کی دھارہے💓💓💓💓اُس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتیہو جس کے جوانوں کی خودی صورتِ فولاد💝💝💝💝💝دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کرنیا زمانہ نیا شام پیداکر♥️♥️♥️♥️خدااگر دل فطرت شناس دے تجھ کوسکوت لالہ وگل سے کلام پیدا کر♦️♦️♦️♦️مراطریق امیری نہیں ، فقیری ہےخودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیداکر♥️♥️♥️♥️شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتاپر دم ہے اگر تو، تو نہیں خطرہ افتاد♦️♦️♦️♦️خودی ہو علم سے محکم تو غیرت جبریلاگر ہو عشق سے محکم تو صور اسرافیل♦️♦️♦️♦️خودی کی یہ ہے منزل اولیںمسافر یہ تیرا نشیمن نہیںتری آگ اس خاک داں سے نہیںجہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیں💓💓💓تو راز کن فکاں ہے ، اپنی آنکھوں پر عیاں ہوجاخودی کا رازداں ہوجا، خدا کا ترجماں ہوجا💜💜💜خودی کیا ہے تلوار کی دھارخودی کیا ہے رازدرون حیاتخودی کیا ہے بیداری کائناتخودی جلوہ بدمست وخلوت پسند💙💙💙💙خودی کے ساز میں ہے عمر جاوداں کا سُراغخودی کے سوزسے روشن ہیں امتوں کے چراغعلامہ اقبال شاعری عشقAllama Iqbal Ishq Poetry in Urduآدمی کی ریشے ریشے میں سما جاتا ہے عشقشاخ گل میں جس طرح باد سحر گا ہی کا نم💙💙💙اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانینہ ہو تو مرد مسلماں بھی کافر و زندیق💙💙💙💙عشق قاتل سے بھی، مقتول سے ہمدری بھییہ بتائیں کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟سجدہ خالق کو بھی، ابلیس سے یارانہ بھیحشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟💝💝💝💝صدقِ خلیل بھی ہے عشق، صبر حسین بھی ہے عشقمعرکہ وجود میں بدرو حنین بھی ہے عشقجفا جو عشق میں ہوتی ہے وہ جفاہی نہیںستم نہ ہو تو محبت میں کچھ مزہ ہی نہیںجفا جو عشق میں ہوتی ہے وہ جفا ہی نہیںستم نہ ہو تو محبت میں کچھ مزہ ہی نہیں🌺🌺🌺قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کردےدہر میں اسم محمدﷺ سے اُجالا کردے🌺🌺🌺عشق تری انتہا عشق مری انتہاتو بھی ابھی ناتمام میں بھی ابھی ناتمام❤️❤️❤️ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوںمری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں💜💜عقل کو تنقید سے فرصت نہیںعشق پر اعمال کی بنیاد رکھ💜💜💜💜ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیںابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں💝💝💝💝💝مجھے عشق کے پر لگا کر اڑامیری خاک جگنو بنا کر اڑا💓💓💓💓علامہ محمد اقبال کے مشہور اشعارAllama Iqbal Famous Shayariجس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازنکہتے ہیں اسی علم کو ارباب نظر موت💝💝💝💝ڈھونڈ پھرتا ہوں میں اقبالؔ اپنے آپ کوآپ ہی گویا مسافر آپ ہی منزل ہوں میںلوگ پتھر مارنے آئے تو وہ بھی ساتھ تھےجن کے گناہ کبھی ہم اپنے س لئے کرتے تھے💓💓💓اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہےمشرق ومغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے💝💝💝💝علامہ اقبال اردو شاعری کا بہترین مجموعہAllama Iqbal Poetry 2 Lines Collectionتیری رحمتوں پہ ہے منحصر میرے ہر عمل کی قبولیتنہ مجھے سلیقہ التجا نہ مجھے شعور نماز ہے💝💝💝💝اپنے کردار پہ ڈال کر پردہ اقبالؔہر شخص کہہ رہا ہے زمانہ خراب ہے♦️♦️♦️♦️دل سے جوبات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے♦️♦️♦️♦️♦️برا سمجھوں انہیں،مجھ سے تو ایسا ہو نہیں سکتاکہ میں خود بھی تو ہوں اقبالؔ اپنے نقتہ چینوں میں♦️♦️♦️فنا کر اپنی زندگی کو راہ جنوں میں اے نوجوانتب کرے گا عبادت جب گناہ کی طاقت نہ ہوگی♦️♦️♦️♦️دلوں کی عمارتوں میں کہیں بندگی نہیںپتھر کی مسجدوں میں خدا ڈھونڈتے ہیں لوگ♦️♦️♦️کوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیںڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں♦️♦️♦️♦️آنکھ کو بیدار کر دے وعدہ دیدار سےزندہ کردے دل کو سوز جوہر گفتار سے♦️♦️♦️♦️کھول آنکھ ،زمیں دیکھ، فلک دیکھ،فضا دیکھمشرق سے نکلتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ♦️♦️♦️♦️حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقیخُدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ♦️♦️♦️♦️جب بھی یہ دل اُداس ہوتا ہےجانے کون آس پاس ہوتا ہےتو شاہیں ہے پروازہے کام تیراترے سامنے آسماں اور بھی ہیںمت کر اتنے گناہ ، توبہ کی آس پر اے انساںبے اخیار سی موت ہے نہ جانے کب آجائےعلم اور تعلیم کے متعلق علامہ اقبال کی شاعریAllama Muhammad Iqbal Poetry About Educationترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہاکوئینہیں ہے تجھ سے بڑھ کر سازِفطرت میں نوا کوئی♦️♦️♦️♦️اللہ سے کرے دور، تو تعلیم بھی فتنہاملاک بھی اولادبھی جاگیر بھی فتنہناحق کے لئے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہشمشیر ہی کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ❤️❤️❤️دوا کی تلاش میں رہادُعا کو چھوڑ کرمیں چل نہ سکا دنیا میںخطاووں کو چھوڑ کرحیران ہو میںاپنی حسرتوں پہ اقبالؔہر چیز خدا سے مانگ لیمگر خُدا کو چھوڑ کر♦️♦️♦️♦️نہیں ہے نااُمید اقبال اپنی کشت ویراں سےذرا نم ہو تویہ مٹی بہت ذرخیز ہے ساقی❤️❤️❤️❤️عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھییہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے🌸🌸🌸🌸یو تو سید بھی ہو، مرزا بھی ، افغان بھی ہوتم سبھی کچھ ہو، بتاو تو مسلمان بھی ہوکبھی اے نوجواں مسلم ، تدبر بھی کیا تو نےوہ کیا گردوں تھا، تو جس کا ہے ایک ٹوٹا ہوا تارااُس جنوں سے تجھے تعلیم نے بیگانہ کیاجو یہ کہتا تھا خردسے کہ بہانے نہ تراشحیرت ہے کہ تعلیم و ترقی میں ہیں پیچھےجس قوم کا آغاز ہی اقراء سے ہوا تھانہ تو زمیں کے لئے ہے نہ آسماں کے لئےجہاں ہے تیرے لئے ، تو نہیں جہاں کے لئےہر شخص جل رہا ہے حسد کی آگ میںاس آگ کو بجھانے دےوہ پانی تلاش کردل پاک نہیں تو پاک ہوسکتا نہیں انساںورنہ ابلیس کو بھی آتے تھے وضو کے فرائض بہتمنزل سے ٖآگے بڑھ کر منزل تلاش کرمل جائے تجھ کو دریا تو سمندر تلاش کرہر شیشہ ٹوٹ جاتا ہےپتھر کو چوٹ سےپتھر ہی ٹوٹ جائے وہ شیشہ تلاش کرسجدوں سے تیرے کیا ہوا صدیاں گزگئیںدنیا تیری بدل دے وہ سجدہ تلاش کرامید ہے کہ علامہ اقبال کی شاعری پسند آئی ہو گی!ہمیں فالو کرےاگر آپ ہمیں سوشل میڈیا پر فالو کرنا چاہتے تو نیچے دیئے گئے
سوشل لنکس پر کلک کریں۔
Www.facebook.com/aaks2002


